نئی دہلی،17نومبر(آئی این ایس انڈیا) گنگا میں آلودگی کو کم کرنے کے لئے حکومت نیا ایکشن پلان لاگو کرنے پر غور کر رہی ہے۔پیر سے شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران حکومت قومی دریا گنگا (، تحفظ اور انتظام) بل، 2019 کو پیش کر سکتی ہے۔اس کے تحت اب گنگا میں آلودگی پھیلانے پر پانچ سال تک کی سزا اور 50 کروڑ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔گنگا کو آلودگی سے بچانے کے لئے مرکزی حکومت ایک خاص قسم کی پولیس فورس بنائے گی۔جسے ’گنگا پروٹیکشن فورس‘ کا نام دیا جائے گا۔فورس کے کے پاس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے اور مقامی پولیس اسٹیشن کو سونپنے کی طاقت ہوگی۔اس کے علاوہ نیشنل گنگا کونسل بھی بنایا جائے گا جو براہ راست وزیر اعظم کی نگرانی میں ہوگا۔پی ایم کے علاوہ اس کونسل میں اتراکھنڈ، اترپردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلی بھی شامل ہوں گے۔معلومات کے مطابق، آبی وسائل وزارت نے 13 شق والے بل کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔بل کو کابینہ کی منظوری کے لئے بھی بھیج دیا ہے۔اس میں غیر قانونی تعمیر کا کام، پانی بڑھنے سے روکنا، گنگا میں گندگی پھیلانے کی طرح بہت سی دفعات شامل ہیں۔اس بل کا مقصد گنگا کی آلودگی کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے۔اس کے ساتھ ہی پانی کے مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانا ہے تاکہ دریا کو اس کی قدرتی حالت میں واپس لایا جا سکے۔
گنگا آلودگی کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار بغیر کسی روک تھام کے گنگا میں گٹر کا پانی ڈالنا ہے۔بڑی بڑی فیکٹریاں بھی اس کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔گنگا کو آلودہ کرنے میں لوگوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے۔نہانے، کپڑے دھونے سے لے کر جانوروں کو نہلانے تک کے کام بغیر روک ٹوک کیا جاتا ہے۔گومکھ سے نکل کر گنگا کل 2525 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے،ملک کی 5 ریاستوں کے 97 شہروں سے گزرتی ہے۔گنگا کے دونوں طرف کل 10 دریاؤں کو گنگا کی معاون ندیاں سمجھا جاتا ہے۔گنگا کے بائیں کنارے پر رام گنگا، گومتی، گھاگھرا، گنڈک، کوسی اور مہانند جیسی ندیاں بنیادی طور پر گنگا کی معاون ندیاں ہیں۔وہیں گنگا کے دائیں سرے پر جمنا، تمسا، سون اور پن پن دریااہم معاون ندیاں ہیں۔